
دنیا کے مختلف حصوں میں ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، لیکن اس کے اثرات پوری انسانیت کو بدل سکتے ہیں۔ ماہرین اسے خاموش ذہانت کہتے ہیں — ایک ایسا ڈیجیٹل نظام جو انسان کے بولے بغیر اس کے خیالات، عادتیں اور فیصلے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کچھ ترقی یافتہ ممالک میں یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی خفیہ طور پر آزمائی جا رہی ہے۔ یہ سسٹم لوگوں کے موبائل فون، کیمرے اور آن لائن سرگرمیوں کو جوڑ کر یہ اندازہ لگاتا ہے کہ کوئی شخص اگلا قدم کیا اٹھائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ہماری زندگی آسان بنا سکتی ہے بلکہ اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو یہ آزادی کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ شاید اسی لیے اس پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
دنیا ایک نئے ڈیجیٹل دور کے دروازے پر کھڑی ہے… مگر یہ دروازہ کس سمت کھلتا ہے، یہ ابھی کوئی نہیں جانتا۔









